الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کا ذکر آج کل بہت ہو رہا ہے تو میں نے سوچا چلو میں بھی قسمت آزما لوں۔ ویسے بھی الیکشن سائنس کا موسم ہے تو ہر کوئی ہی اس کا ماہر بنا ہوا ہے۔ حکومت مصر ہے کہ الیکشن ہوں گے تو الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں پر ہی ہوں گے اور اس سلسلے میں حکومت نے پیر کو الیکشن ایکٹ ترمیمی بل پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے زریعے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے استعمال کے ساتھ دیگر قوانین مجود ہیں۔ اپوزیشن کو چھوڑ بھی دیں تو ملک میں کئی  با شعور آوازیں اس مشین کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کر رہیں ہیں لیکن اس معاملے کو بھی ایک تماشہ بنا کر رکھ دیا گیا ہے ایک وزیر موصوف تو اتنے جذباتی ہو گئے تھے کہ الیکشن کمیشن کو آگ لگانے کا مشورہ دے بیٹھے پتا نہیں حکمران جماعت اور اس جلا دو ، پکڑ لو گھیر لو ذہنیت میں اتنی قربت کیوں ہے؟ شاید 2014 دھرنے کی پارلیمنٹ اور پی ٹی وی پر حملہ کرنے کی یاد رہ رہ کر ستانے لگتی ہے۔ خیر یہ بات تو ہر کوئی ہی اب جان گیا ہے کہ 167 جمہوری ممالک میں سے صرف 8 میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کا استعمال ہوتا ہے کئی ایک ممالک ان مشینوں کو ایک لمبے عرصے تک استعمال کرنے کے بعد ترک کر چکے ہیں۔ جن ممالک نے اس پتھر کو چوم کر واپس رکھ دیا اس میں سے ایک دلچسپ کیس ہالینڈ کا ہے۔ 1960 کی دہائی میں ہالینڈ کی الیکٹورل کونسل کے سیکرٹری امریکہ میں ووٹنگ مشینوں کے استعمال دیکھ کر اس کے دلدادہ ہو گئے اور ڈچ وزارت داخلہ (ہالینڈ میں انتخابی معاملات اس وزارت کے تحت ہوتے ہیں) کو اس بات پر منا لیا کہ ملک میں ہونے والے انتخابات ووٹنگ مشینوں پر کروائے جائیں 1965 میں ہالینڈ میں الیکشن کے ضمن میں ایک نیا قانون نافذ ہوا جس کے تحت انتخابات میں ووٹنگ مشینوں کا استعمال ممکن ہو سکا۔ مارچ 1966 میں 13 مقامی میونسپیلٹیز نے امریکی طرز کی مشینوں کا صوبائی سطح کے انتخابات میں استعمال کیا۔ یہ تجربہ ناکام ہو گیا کیونکہ جلد بازی میں کئے گئے اس فیصلے کی بنا پر ووٹرز کو دقت کا سامنا ہوا جس کے سبب کئی ووٹ خالی آئے۔ اس ناکامی کے بعد ڈچ انتظامیہ نے اپنی مشینیں خود ڈیزائن کرنے کا فیصلہ کیا 1968 میں اس حوالے سے قوائد و ضوابط مرتب کئے گئے اور ڈچ آرگنائزیشن فار اپلائیڈ سائنٹیفک ریسرچ کو ایک کمپنی کے ساتھ مل کر مشین کا ڈیزائن بنانے کا کام سونپا گیا جس کے بعد اس مشین کی تیاری کا کام ڈچ اپریٹس فیکٹری کے ذمہ لگایا گیا۔ 1980 کی دہائی میں ہالینڈ کے انتخابات میں مقامی ڈیزائن پر مبنی مشینوں کا استعمال شروع کیا گیا اور 90 کی دہائی کے وسط تک ہالینڈ کے انتخابات میں وسیع پیمانے پر ان کا استعمال کیا جانے لگا۔ ان مشینوں پر کوئی سیاسی یا عوامی سطح پر بحث نہیں تھی ووٹر بھی خوش تھا اور انتظامیہ بھی کیونکہ ایک تو غلطی کے امکانات کم ہوتے تھے، نتائج جلد آ جاتے تھے اور عملے کی تعداد میں بھی کمی آ گئی تھی۔ اگرچہ 90 کی دہائی کے آخر میں ان مشینوں پر تھوڑے بہت سوالات اٹھنے لگے تھے لیکن ان کو خاص توجہ نہیں ملی 2004 میں آئرلینڈ نے ہالینڈ سے کچھ مشینیں تجرباتی بنیادوں پر حاصل کیں تاکہ انہیں یورپی پارلیمانی انتخابات میں استعمال کیا جا سکے لیکن انہیں ناقابل بھروسا اور خاطر خواہ سیکورٹی نہ ہونے کی بنا پر آئرش حکومت نے ان مشینوں کا استعمال نہ کرنے کا فیصلہ کیا  ڈچ پارلیمنٹ میں اس حوالے سے آواز بھی اٹھائی گئی مگر کسی نے کان نہ دھرے۔جولائی 2006 میں ہالینڈ کی پہلی انٹرنیٹ سروس پروائیڈر کمپنی کے بانی اور چند کمپیوٹر ماہرین نے

 ‘We do not trust voting computers’ 

ADVERTISEMENT

کے نام سے ایک تحریک کا آغاز کیا جی ہاں ووٹنگ مشینوں کے خلاف تحریک کسی سیاسی جماعت نے نہیں بلکہ ٹیکنالوجی ماہرین نے شروع کی خیر اس تحریک کے نتیجے میں سوالات اٹھنا شروع ہوئے اور میڈیا نے بھی توجہ دینا شروع کر دی حتی کہ ہالینڈ کے قومی ٹی وی کے ایک تفتیشی پروگرام میں دکھایا گیا کہ کیسے ایک ماہر پانچ منٹ سے بھی کم وقت میں ان مشینوں کی میموری چپ کو تبدیل کر سکتا ہے جس سے نتائج میں دھاندلی ممکن ہے۔ ڈچ وزارت داخلہ نے ڈچ انٹیلیجنس سروس اور سیکورٹی سروسز کی ڈیوٹی لگائی کہ وہ ان مشینوں کی جانچ کرے۔ ان اداروں نے مشینوں کی جانچ کے بعد بتایا کہ ہالینڈ کے الیکشن میں استعمال ہونے والی دو میں سے ایک کمپنی کی مشین میں سنگین نوعیت کے سیکورٹی مسائل ہیں اس لئے ان کا استعمال ترک کر دیا گیا۔ جبکہ دوسری کمپنی میں یہ مسائل معمولی نوعیت کے تھے جن کو نومبر میں ہونے والے عام انتخابات سے قبل میموری چپ تبدیل کرنے سمیت دیگر سیکورٹی خصوصیات بہتر کر کے استعمال میں لایا گیا۔ اسی اثناء میں پارلیمنٹ نے حکومت سے دو آزاد تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے کا کہا جو اس معاملے کی چھان بین کر کے حکومت کو اپنی رپورٹ جمع کروائے۔ انتخابات کے بعد یہ کمیشن قائم ہوئے اور اور ان دونوں کمیشنز کی رپورٹس نے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کو ناقابل بھروسا اورعدم سیکورٹی سمیت متعدد خدشات کی بنا پر مسترد کرتے ہوئے دوبارہ سے بیلٹ پیپر ووٹنگ کی سفارش کی اور یوں اکتوبر 2007 میں ہالینڈ میں انتخابات کے لئے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کا استعمال ترک کر دیا گیا۔

RELATED STORIES

 ہماری حکومت بھی ان الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کو کوئی الوہی چیز بنا کر پیش کر رہی ہے ویسے بھی ہمارا ٹیکنالوجی کا استعمال کا ٹریک ریکارڈ کچھ خاص اچھا نہیں ابھی تو 2018 میں آر ٹی ایس  بیٹھنے کا معاملہ پوری طرح سے عوام کے سامنے نہیں لایا گیا تو ایک اور انتخابات کو متنازعہ بنانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ موجودہ حکومت کی خاصیت ہی یہی ہے کہ نہایت عمیق, گھمبیر اور کثیرالجہت نوعیت کے مسائل کا حل نہایت سادہ الفاظ میں بتا دیتے ہیں مثلاً غربت کے خاتمے کا آسان سا نسخہ ہے کہ لوگوں کو مرغیاں اور کٹے پلوا دو بس سمجھئے کچھ ایسا ہی معاملہ یہاں بھی ہے۔ انتخابی دھاندلی میں بیلٹ پیپر اس بہت بڑے مسئلہ کا ایک جز ہے اسے خرابی کا ذمہ دار قرار دینا کوتاہ نظری بے وقوفی اور عیاری ہے۔ جبکہ الیکشن جیسے حساس معاملے پر باہمی مشاورت ، اتفاق رائے کے بغیر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے اس قانون کی منظوری سے موجودہ مخاصمانہ سیاسی ماحول کا پارہ مزید چڑھنے کا خدشہ ہے۔