میری والدہ کی زندگی میں دو  چیزیں ہیں جو پچھلے 16سال سے  نہیں بدلیں ۔ ایک ان کا  ٹی وی چینل جو کہ ہمیشہ ہم ٹی وی رہا ہے اور ایک میں بذاتِ خود جس کو نا چاہتے ہوئے بھی ان کو دیکھنا پڑ رہا ہے اور چونکہ میں نے اپنی والدہ کے آخری دم تک ساتھ نبھانے کا وعدہ کر رکھا  ہے تو میری زندگی میں بھی ہم ٹی وی اٹل حقیقت کی طرح موجود ہے ۔ وہ جیسے کہتے ہیں کمبل مجھے نہیں چھوڑتا ،ایسے ہی ہم ٹی وی مجھے نہیں چھوڑتا ۔

میں باقی چینلز کے بارے میں نہیں جانتی لیکن ہم ٹی وی پر پچھلے 16 سال سے  میں نے صرف ایک ہی چیز دیکھی ہے ۔ مظلوم عورت، سسکتی، بلکتی عورت۔  مجبور عورت ، مار کھاتی عورت اور مار کھانے کے بعد آخر میں اسی شخص سے محبت کرنے والی عورت ۔ میری والدہ کے کمرے سے میں نے سوائے ان کی ہنسی کے ،کبھی کسی قسم کی ہنسی نہیں سنی ۔ کیونکہ ہم ٹی وی پر  کوئی نہیں ہنس رہا ہوتا ۔ مرد  چلا رہا ہوتا ہے اور عورت  رو رہی ہوتی ہے ۔ 100 قسطوں میں سے 98 قسطوں میں عورت روتی رہتی ہے اور 100ویں قسط میں اچانک عورت کو مرد سے پیار ہو جاتا ہے اور ایسے ہو جاتی ہے پیار کی جیت۔

اس سب کے بعد میری والدہ کو  بھی ہنستے ہوئے ڈرامے سمجھ ہی نہیں آتے ۔ وہ کسی ہنسی مذاق والے  پروگرام پر یہی کہتی ہیں “اے کی اے؟” (یہ کیا ہے؟) میں ان کو الزام نہیں دونگی کیونکہ روتی، بلکتی  اور تڑپتی عورت کو  دیکھنے کی ان کو عادت ہو چکی ہے۔اب ہنستی ہوئی عورت یا سجی سنوری عورت کچھ عجوبہ سا لگتی ہے ۔ کچھ یہی حال میری والدہ کا ہوا جب انہوں نے نیا ڈرامہ “دوبارہ ” دیکھنا شروع کیا ۔ اس ڈرامے میں حدیقہ کیانی جو کہ مہرو کا  کردار ادا کر رہی ہیں کی چھوٹی عمر میں شادی ہو  جاتی ہے ۔ ساری عمر خاوند کے مطابق زندگی گزاری ۔ہر طرح کا شوق ختم کر دیا ۔ بچے بھی ہو  گئے ۔ اور  جب خاوند کی وفات ہوئی تو  مہرو نے ایک آزادی کو محسوس کیا ۔ مہرو کو لگا کہ وہ اپنی زندگی کے 20 سال واپس جی سکے گی ۔ اس نے شوخ چنچل کپڑے پہننے شروع کیئے ۔ اس نے بچوں کے ساتھ فٹبال کھیلا ۔ اس نے پارک میں واک شروع کی۔ اور مہرو نے اپنے ہی بیٹے کی شادی پر خوب چمکیلے کپڑے بنوائے ۔ مہرو نے واقعی 20 سال بعد اپنے آپ کو پانے کی کوشش شروع کر دی ۔ لیکن ہر رشتہ دار نے ،دوست نے اور حتی کہ اپنے ہی بیٹے نے  مہرو کو ہر قدم پر یاد کروایا کہ “تم بیوہ ہو مہرو۔ تمہیں یہ چیزیں نہیں جچتی۔تم بس خاوند کی یاد میں زندگی گزارو “۔ خاوند نہیں رہا ، تو تم بھی ختم ہو جاؤ ۔ وہ مہرو، جس کا بچپن چھینا ، جس کے 20 سال صرف بیوی بن کر گزرے ، نا کہ عورت ، اب جب اس مہرو کو سانس لینے کا  موقعہ ملا ، اس کے سانس کو خاوند کے سانس کے ساتھ بند کرنے کو کہا گیا ۔ اسے یاد کروایا گیا  کہ تم بیوہ ہو۔ بیوہ۔بیوہ، بیوہ۔

RELATED STORIES

ADVERTISEMENT

میری والدہ کو مہرو کے بچپن میں شادی سے ہمدردی ہوئی  لیکن ان کے لیے یہ بات شدید ناگوار ہے کہ ایک “بیوہ عورت” اتنا سجے کیوں ؟ ایک بیوہ عورت اپنے خاوند کی یاد میں گھٹ کے مر کیوں نہیں رہی؟ میں یہ دہرانا چاہوں گی کہ میں اپنی والدہ کی سوچ پر حیران نہیں ہوں ۔ وہ اس جنریشن سے ہیں جب عورت صرف بیوی اور ماں ہوتی تھی،اور کچھ بھی نہیں ہوتی تھی ۔ اور ماں یا بیوی خود مختار کیسے ہو سکتی ہے؟

یہ تو خیر قصہ ایک بیوہ عورت کا ہے ۔ جب میں یہ کالم لکھنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی تو اسی وقت مریم نواز کی کچھ تصویریں سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی۔ وہ بھی ان کے بیٹے کی شادی کی تقریب میں سے تھیں ۔ مریم نواز اپنے اکلوتے بیٹے کی شادی پر  بہت ہی جوش و خروش سے تیار ہوئیں ۔ میں یاد کرواتی جاؤں کہ  نہ وہ بیوہ ہیں اور نہ ہی کوئی اور مسئلہ ۔ وہ اپنے خاوند کے ساتھ ویسے ہی ہیں جیسے میں ہم ٹی وی کے ساتھ ہوں۔لیکن مریم نواز کی سجاوٹ سے جو صفِ ماتم بچھا ، وہ دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے ۔ کسی نے انہیں یاد کروایا کہ وہ 170  سال کی ہیں ، انہیں شرم آنی چاہیئے۔ کسی نے ان کو یاد کروایا کہ وہ نانی ہیں ، جیسے نانی ہونا کوئی گالی ہو۔ کسی نے ان کو یاد کروایا کہ وہ چور ہیں ۔ پھر کسی نے یہ بھی کہا کہ سرجری سے ایسی ہوئی ہیں ۔ مجھے یقین ہے کہ ان کی سجاوٹ کو اگر پتا چلے کہ اس سجاوٹ کے بارے میں کیا کہا جا رہا ہے تو یہ سجاوٹ بھی ملک چھوڑ کے چلی جائے ۔

ان دونوں قصوں کو دیکھ کر میرے ذہن میں بس ایک ہی بات آئی ۔ ” تم عورت ہو ، تم مرکیوں نہیں  جاتی ؟” وہ معاشرہ جہاں 60 سال کے رنڈوے کو بھی کنواری لڑکی چاہیئے، وہاں ایک بیوہ عورت کے ناچنے پر اتنا واویلا؟ وہ معاشرہ جہاں مرد دوسری شادی سب کچھ چھوڑ کر کر لے ، وہاں ایک عورت کے اپنے بارے میں سوچنے پر اتنا واویلا ؟ وہ معاشرہ جہاں” چاند سی بہو لاؤنگی ” ہر کسی کا ارادہ ہے ، اسی  چاند کی روشنی پر اتنا واویلا؟

عورت ہو عورت بن کر رہو کہنے والوں سے کوئی تو کہے ، انسان ہے، انسان بن کےرہنے دو !